Posts

Showing posts from August, 2020

نبی کریم ﷺکے پسندیدہ کھانے ومشروبات

Image
حضورﷺ نے فرمایا زیتون کا تیل کھانے میں بھی استعمال کرو اور مالش میں بھی اس لیے کہ یہ ایک* بابرکت  درخت ہے۔  حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرمﷺ   نے ایک مرتبہ فرمایا ’’سرکہ بھی کیسا اچھا سالن ہے‘‘ ۔* ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے سرکہ میں برکت کی دعا فرمائی ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے۔ ’’پہلے انبیاء کا بھی یہی سالن رہا ہے‘‘۔ ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ جس گھر میں سرکہ ہو وہ محتاج نہیں ہے یعنی سالن کی احتیاج باقی نہیں رہتی۔ حضورﷺ کو بونگ کا گوشت پسند تھا۔ آپﷺ نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا (یعنی چھری وغیرہ سے نہیں کاٹا) دانتوں سے کاٹ کر کھانے کی ترغیب بھی حضورﷺ نے فرمائی ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ گوشت کو دانتوں سے کاٹ کر کھایا کرو کہ اس سے ہضم بھی خوب ہوتا ہے اور بدن کو زیادہ موافق پڑتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’پُٹھ کا گوشت بہترین گوشت ہے‘‘۔ آپ ﷺ رات کا کھانا بھی تناول فرمایا کرتے تھے اگرچہ کھجور کے چند دانے ہی کیوں نہ ہوں۔ فرمایا: ’’عشاء کا کھانا چھوڑ دینا بڑھاپا لاتا ہے‘‘۔ کھجور یا روٹی کا کوئی ٹکڑا کسی پاک جگہ پڑا ہوتا تو اس کو صاف کرکے کھا لیتے۔ ...

بچوں کیلئے لازمی وٹامنز اور منرلز

Image
  چھوٹے بچوں اور ٹین ایجرز کی غذائی ضروریات بڑوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ بچوں کے لیے سب سے اہم وٹامنز اور معدنیات (منرلز) کون سے ہیں ۔ آئیے جانیں۔ کیلشیم(calcium) اکیڈمی آف نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس کی ترجمان ڈاکٹر اینڈریا جیانکولی کے مطابق، ’’ ہڈیوں اور دانتوں کی نشوونما میں کیلشیم کو” بنیادی جزو کی حیثیت حاصل ہے۔ بچپن میں آپ کے بچے کی ہڈیاں بشمول دانت جس قدر مضبوطی حاصل کریں گے، بڑھاپے میں ان کے ٹوٹنے کا عمل اتنا ہی سست ہوگا‘‘۔ کیلشیم کی ضروریات ٭ ایک سے تین سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 700ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٭ چار سے آٹھ سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 1,000ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٭ 9سے 18سال کی عمر کے نوعمر بچوں کو 1,300ملی گرام کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ڈیری مصنوعات(dairy products ) سامن مچھلی، گہرے ہرے رنگ کے کیلشی والی سبزیوں جیسے کیل(Kale) اور فورٹیفائید (Fortified)غذاؤں میں کیلشیم موجود ہوتا ہے۔ فورٹیفائیڈ غذائیں وہ ہوتی ہیں، جن میں مصنوعی طور پر مختلف وٹامنز یا منرلز کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے کئی ’فروٹ جوسز‘ میں کیلشیم کا اضافہ کیا جاتا ہے یا ڈبے والے د...

برسات کے موسم میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ اور ہماری احتیاط

Image
  ماہرین صحت نے کہا ہے کہ برسات کے موسم میں بے شمار وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، مون سون میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں سیزنل انفلوائنزا (وبائی زکام)، ملیریا، ٹائیفائڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ، اور ہیپاٹائٹس اے سرفہرست ہیں ۔ وبائی زکام ( سیزنل انفوائنزا) مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے ، انفلوائنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے اور چونکہ اس کاوائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں باآسانی منتقل ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں، اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیئے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو اور جو اس وائرس کو ختم کرسکے اس کے علاوہ ہیضہ مون سوں کے موسم میں پھیلنے والی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے، ہیضہ کچھ خطرناک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے جو خراب کھانوں، گلے سڑے پھلوں، گندے پانی اور حفظان صحت کی کمی کے باعث پھیلتے ہیں۔ اس کی علامات میں پیچش اور قے آنا شامل ہے۔ ان کی وجہ سے جسم سے بہت زیادہ پانی ضائع ہو...