برسات کے موسم میں وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ اور ہماری احتیاط
ماہرین صحت نے کہا ہے کہ برسات کے موسم میں بے شمار وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، مون سون میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں سیزنل انفلوائنزا (وبائی زکام)، ملیریا، ٹائیفائڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ، اور ہیپاٹائٹس اے سرفہرست ہیں ۔
وبائی زکام ( سیزنل انفوائنزا) مون سون کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے ، انفلوائنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے اور چونکہ اس کاوائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے اس لئے ایک فرد سے دوسرے میں باآسانی منتقل ہوجاتا ہے۔

اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں، اس وبائی مرض سے بچنے کے لئے اچھی غذا لینا چاہیئے تاکہ جسم کی قوت مدافعت زیادہ مضبوط ہو اور جو اس وائرس کو ختم کرسکے
اس کے علاوہ ہیضہ مون سوں کے موسم میں پھیلنے والی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے، ہیضہ کچھ خطرناک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے جو خراب کھانوں، گلے سڑے پھلوں، گندے پانی اور حفظان صحت کی کمی کے باعث پھیلتے ہیں۔
اس کی علامات میں پیچش اور قے آنا شامل ہے۔ ان کی وجہ سے جسم سے بہت زیادہ پانی ضائع ہو جاتا ہے اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، اورانسانی جسم میں نمکیات کی کمی ہوجاتی ہے۔ ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ ہیضے کے مریض کو اوآرایس(ORS) پانی میں گھول کر پلانا چاہیئے جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے،ہیضے سے بچاؤ کے لئے ابال کر صاف پانی کا استعمال اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھناضروری ہے۔

برسات کے موسم میں آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتاہے جوکہ آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے(excretion) سے پھیلتا ہے ،اس کی علامات کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا ہے۔اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ا سکا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے۔ اس بیماری کی تشخیص خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے،اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاتی تدابیر میں صاف پانی کا استعمال، اچھے انٹی بیکٹیریا صابن کا استعمال اور گندے پانی کی نکاسی کا بہتر انتظام کرنا چاہیئے۔
اسی طرح برسات کے موسم میں پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ملیریا ہے جو کہ بارش کے کھڑے پانی میں پیدا ہونے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کی علامات میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینہ آنا شامل ہیں، اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے تو جگر اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ملیریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر کے لیے مچھر دانی کا استعمال کرناچاہیئے اور کوشش کرنی چاہیئے کہ گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہو۔
پانی جمع ہونے سے ڈینگی بخار پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، ڈینگی مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتاہے۔ اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموماً بڑا ہوتا ہے اور صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ڈینگی بخار کی علامات میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں۔
گرم موسم میں بارشیں جہاں ہمارے لیے رحمت اور راحت کا سبب بنتی ہیں وہیں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتی ہیں، انھوں نے کہا کہ مون سون کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جائے ، خود کو اور گھر کو صاف ستھرا رکھاجائے، تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچا جاسکے

Comments
Post a Comment