Posts

Showing posts from October, 2020

سعودی عرب میں منفردطرزکےکیفےکاآغاز

Image
سعودی  تاریخ  کے  اس  پہلے  انوکھے  کیفے  میں  گاہک  اپنے  کُتوں  اور  دیگر  پالتو  جانوروں  کو  بھی  لا سکتے  ہیں۔ سعودی  عرب  میں  عمومی  طور  پر  کتوں  کو  نجس  جانور  سمجھا  جاتا  ہے۔ حتیٰ  کہ  ملک  میں  عوامی  مقامات  پر  کتے  لے  جانے  پر  بھی  پابندی  عائد  ہے۔تیزی  سے  جدت  اختیار  کرتے  سعودی  عرب  میں  اب  لا وارث  جانوروں  کو ” ایڈاپٹ “  کرنے  یعنی   اپنے پالتو  جانور  کے  طور  پر  پاس  رکھنے  کا  رواج  بھی  تیزی  سے  فروغ  پا  رہا  ہے۔تاہم  اب سعودی عرب میں  اپنی  نوعیت  کا  ایسا  پہلا  کیفے  کھُل  گیا  ہے  جہاں  گاہکوں  کو  اپنے  ساتھ...

گاجر کے بیج کس طرح سے بغیر کسی بیج کے حاصل کیے جا سکتے ہیں

Image
  آجکل گاجر کا موسم آگیا ہے۔ آئیں گاجروں کو کھانے کا مزا لینے کے ساتھ ساتھ ان کو اگانا اور ان کے بیج حاصل کرنا بھی سیکھتے ہیں ۔ گاجر کا سر والا حصہ کاٹ کر علیحدہ کر لیں اور باقی گاجر کو استعمال کر لیں۔ اب جو گاجر کا اوپر والا حصہ ہے اس کو کسی گملے یا ڈبے میں مٹی بھر کر اس کے اوپر اوپر رکھ کر ہلکا سا دبا دیں۔ تھوڑا تھوڑا سا پانی دیتے رہیں۔  اب کچھ ہی دن میں نوٹس کریں گے کہ اس کے پتے نکلنے شروع ہو گئے ہیں۔ اب اگر آپ نے اس سے بیج حاصل کرنے ہیں تو اس کے لئے تین سے چار مہینے آپ کو اس کو پانی دینا ہے پھر آپ دیکھیں گے کہ یہ ایک تین سے چار فٹ لمبے پودے میں تبدیل ہو گیا ہے اور اس پر پھول آگئے ہیں ہر ایک بڑے پھول میں بہت سے چھوٹے پھول ہوں گے۔  اب پہلے پھولوں کی پتياں جھڑیں گی اور ان کا بیج رہ جائے گا اب بیج کے بڑا ہونے کا وقت ہے پہلے یہ بیج سبز رنگ کے ہوں گے تو ان اتارنا نہیں جب یہ بیج پک کر براؤن ہو جائیں گے تو ان پھولوں کو اتار لیں اور ان سے بیج علیحدہ کر کے ان سے سینکڑوں گاجریں اگا سکتے ہیں۔ بہت ہی آسان طریقہ ہے آپ بھی ضرور آزمائیں۔

توبہ کی حقیقت‎

Image
توبہ کے معنی رجوع کرنا کےہیں۔ وہ کام جس کے کرنے سے اللّٰہ تعالٰی نے منع فرمایا ہے اسے صرف اللّٰہ کے خوف سے کرنے سے باز آ جانا توبہ کی حقیقت ہے۔ نبی کریم صلَّی اللّٰہُ علیہ و اٰلِہٖ وسلم نے فرمایا: “فعل بد سے پشیمانی توبہ ہے” یہ ایک ایسا قول ہے جس میں توبہ کی تمام شرطیں موجود ہیں۔ توبہ کی شرطیں ۱) توبہ کی ایک شرط تو احکام الہی کی مخالفت کرنے پر افسوس اور ندامت کا اظہار کرنا ہے۔ ۲) دوسری شرط لغزش یا گناہ کو فورًا چھوڑ دینا ہے۔ ۳) تیسری شرط نافرمانی یا گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا پکا ارادہ کرنا ہے ۔ یہ تینوں شرطیں ندامت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کیونکہ جب دل میں اپنے کیے پر ندامت پیدا ہوتی ہے تو باقی دونوں شرطیں خود بخود ہی آ جاتیں ہیں۔ جب بندہ اپنے بُرے احوال اور بُرے اعمال میں غور کرے اور ان سے خلاصی طلب کرے تو اللّٰہ تعالٰی توبہ کے اسباب اس پر آسان کر دیتا ہے۔ اور اس کو گناہ کی بدبختی سے نجات دے دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد ہے “فَتَابَ عَلَیْہِ إِنَّہُ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمِ” ترجمہ: پس اللّٰہ تعالٰی نے اس کی توبہ قبول فرمائی بلاشبہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ نبی ک...