توبہ کی حقیقت
توبہ کے معنی رجوع کرنا کےہیں۔
وہ کام جس کے کرنے سے اللّٰہ تعالٰی نے منع فرمایا ہے اسے صرف اللّٰہ کے خوف سے کرنے سے باز آ جانا توبہ کی حقیقت ہے۔
نبی کریم صلَّی اللّٰہُ علیہ و اٰلِہٖ وسلم نے فرمایا:
“فعل بد سے پشیمانی توبہ ہے”
یہ ایک ایسا قول ہے جس میں توبہ کی تمام شرطیں موجود ہیں۔
توبہ کی شرطیں
۱) توبہ کی ایک شرط تو احکام الہی کی مخالفت کرنے پر افسوس اور ندامت کا اظہار کرنا ہے۔
۲) دوسری شرط لغزش یا گناہ کو فورًا چھوڑ دینا ہے۔
۳) تیسری شرط نافرمانی یا گناہ کی طرف نہ لوٹنے کا پکا ارادہ کرنا ہے ۔
یہ تینوں شرطیں ندامت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ کیونکہ جب دل میں اپنے کیے پر ندامت پیدا ہوتی ہے تو باقی دونوں شرطیں خود بخود ہی آ جاتیں ہیں۔
جب بندہ اپنے بُرے احوال اور بُرے اعمال میں غور کرے اور ان سے خلاصی طلب کرے تو اللّٰہ تعالٰی توبہ کے اسباب اس پر آسان کر دیتا ہے۔ اور اس کو گناہ کی بدبختی سے نجات دے دیتا ہے۔
اللّٰہ تعالٰی کا ارشاد ہے
“فَتَابَ عَلَیْہِ إِنَّہُ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمِ”
ترجمہ: پس اللّٰہ تعالٰی نے اس کی توبہ قبول فرمائی بلاشبہ وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
نبی کریم صلی اللّٰہُ علیہ والِہٖ وسَلِّمْ نے فرمایا:
“اللّٰہ تعالٰی کو توبہ کرنے والے جوان سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں”۔
دوسری جگہ فرمایا
“گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جس پر کوئی گناہ نہیں”۔
غلطی کا ارتکاب کرنا قابل مذمت ہے اور خطا سے نیکی کی طرف رجوع کرنا اچھا اور قابل تعریف ہے۔ یہ تو توبہ عام ہے۔
ایک توبہ خاص ہے جو اللّٰہ کے نیک بندے کرتے ہیں اور یہ توبہ نیکی سے زیادہ نیکی کی طرف رجوع کرنا ہے۔تاکہ نیکی کرنے سے دل میں اپنے لیے بڑائی پیدا نہ ہو۔ یہ اولیاء اللّٰہ کا فعل ہے۔
نبی کریم صلَّی اللّٰہُ علَیہ وسَلِّم نے فرمایا
وَإنَّہٗ لَیُھَانُ عَلیَّ حتَّی إنِّی کُنْتُ اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِیْ کُلِّ یَوْمٍ سبْعِیْنَ مَرَّۃً
ترجمہ: “اور توبہ مجھ پر آسان کر دی جاتی ہے یہانتک کہ میں ہر روز ستر بار اللّٰہ تعالٰی سے معافی مانگتا ہوں”۔
(کشف المحجوب کے اردو ترجمہ سے اقتباس)
آپ بھی توبہ میں دیر نہ کریں کسی بھی غلطی یا گناہ کو چھوٹا نہ سمجھیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ نے کوئی گناہ نہیں کیا پھر بھی توبہ کرتے رہیں تاکہ اولیاء آللّٰہ کی صف میں شامل ہوں۔

Comments
Post a Comment