عمودی کاشت کاری (ورٹیکل فارمنگ) تیزی سے مقبول ہوتا ہوا طریقہ کاشت کاری

دس منزلہ کھیت سے گندم کی پیداوار 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے، ماہرین
زراعت میں اس نئے شعبے کو ’’عمودی کاشت کاری‘‘ (ورٹیکل فارمنگ) کہا جاتا ہےجس میں کھلے آسمان کے بجائے کسی عمارت کے اندر، مختلف فصلوں کی منزل در منزل کاشت کرتے ہوئے، کم رقبے پر زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔
امریکی زرعی ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر ایک دس منزلہ کھیت میں گندم کاشت کی جائے تو گندم کی پیداوار روایتی زراعت کے مقابلے میں 200 سے 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے۔
دبئی میں بھی حکومت نے شہریوں کو تازہ سبزیوں اور پھلوں کی فراہمی کے لیے جدید فارمنگ کا منصوبہ شروع کیا ہے۔ عمودی کاشت کاری کا یہ منصوبہ 100 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا ۔ جس میں توانائی کے حصول کے لئے سورج کی روشنی کی بجائے ایل ای ڈی بلبوں کا استعمال کیا جائے گا۔
فوڈ سکیورٹی کے ادارے کے چیئرمین عمر بو شہاب کہتے ہیں کہ حکومت کا ارادہ ہے کہ 21 اجناس کے چھ ماہ کا ذخیرہ اپنے پاس رکھا جائے تاکہ درآمد نہ کرنا پڑے۔(یاد رہے کہ دبئی میں 80 فیصد پھل اور سبزیاں باہر سے درآمد کی جاتیں ہیں)
امریکا میں دنیا کے سب سے بڑے ’’کثیرالمنزلہ‘‘ کھیت کا منصوبہ عمودی کاشت کاری کا عملی آغاز 1999 میں ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک یہ خاصی مقبول ہوچکی ہے۔ عالمی طور پر بھی اس کی مارکیٹ مسلسل وسعت پذیر ہے جو آج دو ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو 2026 تک 12 ارب ڈالر ہوجانے کی توقع ہے۔
ان تمام خوبیوں کے باوجود، عمودی کاشت کاری آج بھی بہت مہنگی ہے جس میں صرف ایک ہیکٹر کھیت تعمیر کرنے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اخراجات بھی کم ہونے کی خاصی امید ہے۔
Thanks
ReplyDelete